26 نومبر 2012 - 23:47

استقامت کے میزائيلوں کے مقابلے میں اپنے میزائيلی سسٹم کی پے در پے ناکامی کے بعد صہیونی ریاست نے نۓ میزائل شکن نظام کا تجربہ کیا ہے۔

ابنا:  موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ سسٹم درمیانے درجے تک مار کرنے والے میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لۓ ڈیزائن کیا گيا ہے۔
اسرائيلی حکام کا کہنا ہے کہ نئے میزائل دفاع نظام نام ڈیوڈ سلنگ [David's Sling] ہے اور آئرن ڈوم کی نسبت اس میں زیادہ قابلیت پائي جاتی ہے جسے اس سے قبل صہیونی فوجی استعمال کر چکے ہیں۔ 
امریکہ کے ایوان نمائندگان نے رواں سال مئي کے مہینے میں اسرائيل کے آئرن ڈوم اور ڈیوڈ سلنگ نامی میزائل دفاعی سسٹم  اور صہیونی ریاست کے ایرو نامی دور مار میزائيل دفاعی نظام کے لئے نو سو سینتالیس ملین ڈالر مختص کئے تھے۔
صہیونی حلقوں نے تصدیق کی تھی کہ غزہ کے خلاف آٹھ روزہ جنگ میں فلسطینی مزاحمت نے صہیونی ریاست کے حملوں کے جواب میں تقریبا ایک ہزار ساٹھ میزائل غزہ پٹی سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر داغے تھے جن میں سے تقریبا چار سو بیس میزائیلوں کا ہی آئرن ڈوم سسٹم پتہ لگا سکا اور زیادہ تر میزائیلوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اقتصادی بحران کا شکار صہیونی ریاست کو میزائل سسٹمز کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔
صہیونی ریاست کے شہری دفاع کے وزیر آوی دیختر نے کہا ہے کہ آٹھ روزہ جنگ میں آئرن ڈوم سسٹم کے ذریعے مزاحمت کے میزائیلوں کی روک تھام کے لئے پچیس سے تیس ملین ڈالر تک کے اخراجات اٹھانا پڑے ہیں۔
صہیونی وزیر جنگ ایہود بارک ـ جو اب جنگ میں شکست کے باعث مستعفی ہوچکے ہیں ـ نے بھی کہا ہے کہ  مزاحمت کے میزائلوں کامقابلہ کرنے کے لئے آئرن ڈوم سسٹم سے تقریبا چار سو میزائیل فائر کۓ گے جن پر پچاس ملین ڈالر کے اخراجات آئے ہیں جبکہ فلسطینیوں نے جن میزائیلوں سے اسرائیل کونشانہ بنایا ان پر آنے والی لاگت ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ نہیں تھی۔
دریں اثناء موصولہ اطلاعات سے نشاندہی ہوتی ہے کہ ہر ایک آئرن ڈوم سسٹم کی قیمت دو سو ملین ڈالر سے زیادہ ہے اور صہیونی ریاست نے ان میں سے پانچواں سسٹم نقب میں اور چھٹا تل ابیب میں نصب کیا ہے البتہ اس سلسلے میں زیادہ تر اخراجات امریکہ نے برداشت کئے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی پر صہیونی ریاست کی حالیہ فوجی جارحیت کے نتیجے میں اس ریاست کو دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے جس میں مزاحمت کے میزائلوں کے نتیجے میں ہونے والا نقصان بھی شامل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110

بشکریہ از ریڈيو تہران